فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 211

۲۱۱ نکاح معاف نہ کرنا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔اس لئے کہ دیتی ہے میں نے معاف کیا۔ورنہ اگر اُسے دے دیا جائے اور وہ اس کے مصارف جانتی ہو تو پھر معاف کرالینا اتنا آسان نہ ہو۔حضرت عمر اور دیگر ائمہ کہار اور بزرگوں کا فیصلہ تو یہ ہے کہ کم از کم سال کے بعد عورت اپنا مہر اپنے خاوند کو دے سکتی ہے یعنی مہر وصول کرنے کے بعد ایک سال تک وہ اپنے پاس رکھے اور پھر اگر چاہے تو خاوند کو دے دے۔( مصباح ماہ جون ۱۹۴۱ء - الازھار لذوات الخمار صفحہ ۱۵۹۔ایڈیشن دوئم ) مهر ضرور ادا کرنا چاھئے حکیم فضل دین صاحب جو ہمارے سلسلہ میں السابقون الاولون میں سے ہوئے ہیں ان کی دو بیویاں تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مہر شرعی حکم ہے اور ضر ور عورتوں کو دینا چاہئے۔اس پر حکیم صاحب نے کہا میری بیبیوں نے مجھے معاف کر دیا ہوا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کیا آپ نے ان کے ہاتھ میں رکھ کر معاف کرایا تھا؟ کہنے لگے نہیں۔حضور یونہی کہا تھا اور انہوں نے معاف کر دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا پہلے آپ ان کی جھولی میں ڈالیں پھر ان سے معاف کرائیں (یہ بھی ادنیٰ درجہ ہے۔اصل بات یہی ہے کہ مال عورت کے پاس کم از کم ایک سال رہنا چاہئے اور پھر اس عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرے تو درست ہے ) ان کی بیویوں کا مہر پانچ پانچ سور روپیہ تھا۔حکیم صاحب نے کہیں سے قرض لے کر پانچ پانچ سور و پیران کو دے دیا اور کہنے لگے تمہیں یاد ہے تم نے اپنا مہر مجھے معاف کیا ہوا ہے۔سواب مجھے یہ واپس دے دو۔اس پر انہوں نے کہا اس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ نے دے دینا ہے۔اس وجہ سے کہ دیا تھا کہ معاف کیا ، اب ہم نہیں دیں گی۔حکیم صاحب نے آکر یہ واقعہ حضرت صاحب کو سنایا کہ میں نے اس خیال سے کہ روپیہ مجھے واپس مل جائے گا ایک ہزار روپیہ قرض لے کر مہر دیا تھا مگر