فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 202

۲۰۲ نکاح ہیں اور اگر کسی لڑکی کا باپ موجود ہو تو اس کی اجازت کے بغیر سوائے مذہبی تبائن اور پھر قضاء کی اجازت کے بغیر ہرگز نکاح جائز نہیں۔اگر باپ نہ ہو تو بھائیوں کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں۔اگر بھائی نہ ہوں تو چوں کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں۔ہاں اگر کوئی بھی جدی رشتہ دار موجود نہ ہو تو قاضی یا عدالت کی اجازت سے اس لڑکی کا نکاح ہوسکتا ہے لیکن اس کے بغیر جو نکاح ہواگر مسلمان نے کیا ہو تو اس کا نام اسلام نے نکاح نہیں بلکہ اُدھالا رکھا ہے۔الفضل ۲ جولائی ۱۹۳۷ء۔جلد ۲۵ نمبر ۱۵۱ صفحه ۵) ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نھیں جوڑ کی اپنے ولی کی رضامندی کے بغیر کسی خاص شخص پر نظر رکھ کر اس سے شادی کر لیتی ہے اسی کا نام اُدھالا ہے اور میں سمجھتا ہوں اگر کوئی غیر احمدی لڑکی اس طرح احمدیوں کے پاس آ جائے اور وہ کسی خاص آدمی کو مد نظر رکھ کر اس سے شادی کرنے کے لئے آئے۔تو ہماری جماعت کے دوستوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایسی شادی ہرگز نہ ہو۔تا ہماری جماعت میں اُدھالے کی رسم جاری نہ ہو۔میں نے یہ مسئلہ اس لئے بتایا ہے تا وہ لوگ جو اس فعل کے ذمہ دار ہیں اور زمیندار بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ جہاں جہاں ایسے واقعات ہوں ان لوگوں سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں جوولی کی رضامندی کے بغیر کسی سے نکاح کر لیں۔بلکہ ہماری ہمدردی ان لوگوں سے ہوگی جن کی لڑکیوں سے ایسا سلوک کیا گیا۔(الفضل ۲ جولائی ۱۹۳۷ء) ہماری شریعت میں ولی مرد کو ہی ٹھہرایا گیا ہے چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت نکاح کرانے کے لئے آئی۔تو آپ نے اس کے لڑکے کو جس کی عمر غالباً دس گیارہ سال تھی ولی بنایا۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ولی مرد ہی ہوتے ہیں۔اس عورت