فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 180

દ ۱۸۰ مگر اس غرض کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک ظاہری حج بھی رکھ دیا اور صاحب استطاعت لوگوں پر یہ فرض قرار دے دیا کہ وہ گھر بار چھوڑ کر مکہ مکرمہ میں جائیں اور اس طرح اپنے وطن عزیز واقرباء کی قربانی کا سبق سیکھیں۔کیونکہ اسلام جسم اور روح دونوں کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔جس طرح دنیا میں ہر ایک انسان کا ایک مادی جسم ہوتا ہے اور جسم میں روح ہوتی ہے اسی طرح مذہب اور روحانیت کے بھی جسم ہوتے ہیں جن کو قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے مثلاً اسلام نے نماز کی ادائیگی کے لئے بعض خاص حرکات مقرر کی ہوئی ہیں۔اب اصل غرض تو نماز کی یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو۔اس کی صفات کو وہ اپنے ذہن میں لائے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کرے۔ان باتوں کا بظاہر ہاتھ باندھنے یا سیدھا کھڑا ہونے یا زمین پر جھک جانے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔مگر چونکہ کوئی روح جسم کے بغیر قائم ہی نہیں رہ سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے جہاں نماز کا حکم دیا وہاں بعض خاص قسم کی حرکات کا بھی حکم دے دیا۔جن مذاہب نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور انہوں نے اپنے پیروؤں کے لئے عبادت کرتے وقت جسم کی حرکات کو ضروری قرار نہیں دیا وہ رفتہ رفتہ عبادت سے ہی غافل ہو گئے ہیں اور اگر ان میں کوئی نماز ہوتی بھی ہے تو ایک تمسخر سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔اسی طرح گوحقیقی حج یہی ہے کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو منقطع کر کے خدا کا ہو جائے۔مسائل حج ( تفسیر کبیر۔جلد ششم ،سورہ حج صفحه ۳۱) سوال :۔موجودہ گرانی کے وقت صاحب استطاعت حج کرے یا نہ کرے؟ جواب:۔جو شخص خواہ تنگی مال یا راستہ کی خرابی یا ضعف و بیماری کی وجہ سے حج نہیں کر سکتا اور نیت رکھتا ہے کہ روک دور ہو تو حج کروں وہ ایسا ہی ہے گویا اس نے حج کیا۔( الفضل ۴ رمئی ۱۹۲۲ء)