فرموداتِ مصلح موعود — Page 179
129 فرضیت حج حج چوتھا حکم حج کا ہے۔اگر سفر کرنے کے لئے مال ہو، راستہ میں کوئی خطرہ نہ ہو، بال بچوں کی نگرانی اور حفاظت کا سامان ہوسکتا ہو تو زندگی میں ایک دفعہ حج کرنے کا حکم ہے۔(الاز ہار لذوات الخمار صفحه ۲۴) اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے تو حج کرے اس کے لئے کئی شرطیں ہیں مثلا مال ہو، رستہ میں امن ہو اور اگر عورت ہو تو اس کے ساتھ اس کا خاوند یا بیٹا یا بھتیجایا ایسا کوئی اور رشتہ دار محرم جانے والا ہو۔حج کافلسفه ( الا زہار لذوات الخمار صفحه ۴۷) اسلام کا ایک رکن حج ہے جو اجتماع قومی کا زبر دست ذریعہ ہے۔دنیا کے کسی مذہب میں حج فرض نہیں لیکن اسلام نے سال میں ایک دفعہ تمام صاحب استطاعت لوگوں کو ایک مرکز میں اکٹھا ہونے کا حکم دیا ہے۔اس سے کئی قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔جب امیر اور غریب ، حاکم اور محکوم، عالم اور جاہل سب ایک جگہ اکٹھے ہوں گے تو وہ قومی ضرویات پر غور کریں گے۔اپنی کمزوریوں پر نگاہ دوڑائیں گے۔اور ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح حج کے ذریعہ اسلام نے مرکز کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جس سے آگے قوم کی درستی ہوتی ہے اور وہ ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا سکتی ہے۔( تفسیر کبیر۔جلد دہم ،سورۃ الکوثر - صفحہ ۳۰۰) واذن فى الناس بالحج ياتوك رجالا ---- الآيه حج کی اصل غرض روحانی طور پر یہ ہے کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو تو ڑ کر دل سے خدا کا ہو جائے