فرموداتِ مصلح موعود — Page 166
۱۶۶ روزه نزلہ کے نتیجہ میں انسان کو پیاس زیادہ لگتی ہے۔اب روزے کے ساتھ جب وہ پیاس کو دبائے گا تو وہ اور بھی زیادہ بڑھے گی اور یہ نزلہ کے لئے بہت مضر ہے۔پس بسا اوقات بعض بیماریاں دیکھنے میں تو معمولی ہوں گی لیکن روزے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کا نقصان بہت بڑا ہو گا۔اس لئے ایسی بیماری میں روزہ نہ رکھنا چاہئے۔سوال :۔کیا ذیا بیطیس کا مریض روزہ رکھ سکتا ہے؟ ( الفضل ۱۱ را پریل ۱۹۳۵ء) الفضل ۱۱ر اپریل ۱۹۲۵ء۔نمبر ۱۱۳ - جلد ۱۳) جواب :۔بیماری میں روزہ جائز نہیں اور ذیا بیطیس کے لئے تو بہت ہی مضر ہے۔الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء۔نمبر ۱۰۔جلد ۳) سوال:۔گزشتہ سال روزے رکھنے کے نتیجہ میں مجھے کچھ حرارت رہنے کی تکلیف ہو گئی تھی ڈاکٹروں نے اسے روزے کی خشکی کی وجہ قرار دیا کہ جگر کو گرمی پہنچی ہے۔گرمیوں میں تکلیف زیادہ ہوگئی۔اگر چہ اب بھی پیشاب زردی مائل آتا ہے۔آنکھوں میں جلن کی سی کیفیت رہتی ہے ان حالات میں کیا اس دفعہ روزے رکھوں یا نہ رکھوں؟ جواب :۔نہ رکھیں اور فدیہ دے دیں۔فائل مسائل دینی 21۔2۔60/A-32) امتحان دینے والے مرضعه ، حاملہ اور بچے روزہ نہ رکھیں قرآن کریم میں صرف بیمار اور مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنا جائز قرار دیا ہے۔دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ کے لئے کوئی ایسا حکم نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیمار کی حد میں رکھا ہے۔اسی طرح وہ بچے بھی بیمار کی حد میں ہیں جن کے اجسام ابھی نشو ونما پارہے ہیں خصوصاً وہ جو امتحان کی تیاری میں مصروف ہوں۔ان دنوں ان کے دماغ پر اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ بعض پاگل