فرموداتِ مصلح موعود — Page 165
۱۶۵ روزه کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے کیا ملا زمت چھوڑ دوں؟ جواب :۔حضور نے لکھوایا کہ روزہ رکھنا چاہئے۔اب اتنے دنوں زیادہ خرچ برداشت کر کے سواری کا کوئی انتظام کر لیں۔روزہ نہیں چھوڑا جاسکتا۔( الفضل ۲۲ مئی ۱۹۲۲ء نمبر ۹۱ ) بیمارا گر کہتا ہے کہ میں روزہ رکھ سکتا ہوں اور رکھتا ہے تو بُرا کرتا ہے۔اسی طرح جو شخص سفر کرتا ہے اور روزہ رکھتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کر رد کرتا ہے۔سفر کے متعلق میرا عقیدہ اور خیال یہی ہے ممکن ہے بعض فقہاء کو اس سے اختلاف ہو کہ جوسفرسحری کے بعد شروع ہو کر شام کو ختم ہو جائے وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔سفر میں روزہ رکھنے سے شریعت روکتی ہے مگر روزہ میں سفر کرنے سے نہیں روکتی۔پس جو سفر روزہ رکھنے کے بعد شروع ہو کر افطاری سے پہلے ختم ہو جائے وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔روزہ میں سفر ہے سفر میں روزہ نہیں۔(الفضل ۲۵ ستمبر ۱۹۴۲ء نمبر ۲۲۴) جن بچوں کے سینے چھوٹے اور کمزور ہوں ان کو روزوں پر مجبور کرنا بلکہ ان کو روزے رکھنے دینا بھی درست نہیں۔ہاں پندرہ سال کی عمر سے ان کو عادت ڈلوانی اور مشق کروانی چاہئے خواہ ان کے قویٰ شہوانی بارہ برس کی عمر سے ہی بلوغت کو پہنچ گئے ہوں۔(الفضل ۱۴ را پریل ۱۹۲۵ء) نزله میں روزه میرے نزدیک نزلہ خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہوایسی بیماری ہے جس کا روزہ سے تعلق ہے اور ایسے لوگوں کے لئے جنہیں نزلہ ہوتا ہے روزے رکھنے بہت مضر اور بڑے نقصان کا موجب ہوتے ہیں۔