فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 150

۱۵۰ زكوة کیا جا سکتا ہے۔ابتدائے اسلام میں عرب میں غلامی کا رواج تھا اس لئے ان کے آزاد کر وانے کا حکم تھا کیونکہ اسلام بیع وشراء والی غلامی کو مطلقاً حرام کرتا ہے لیکن اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ اگر کوئی جابر قوم ظالمانہ طور پر کسی کمزور قوم کو روند ڈالے اور ان کے ملک پر قبضہ کرلے اور ان کو غلام بنالے تو کمزور قوم کی مدد کی جائے اور ان کو ظالموں کے ہاتھوں سے آزاد کرایا جائے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کا قرض ادا نہ کر سکنے کی صورت مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کی زکوۃ کے مال سے گلو خلاصی کرائی جائے۔چھٹی مد غارمین کی بیان کی گئی ہے۔اس کی ذیل میں وہ لوگ آجاتے ہیں جن کو بعض اوقات ایسی رقوم ادا کرنی پڑ جاتی ہیں جن کے براہ راست وہ ذمہ وار نہیں ہوتے۔مثلاً کسی کی ضمانت دی اور جس کی ضمانت دی تھی وہ فوت ہو گیا یا کسی اور طرح سے غائب ہو گیا۔تو ضامن کے پاس مال نہ ہو سکنے کی صورت میں اس کی امداد کی جاسکتی ہے۔اسی طرح اس کی ذیل میں وہ تاجر بھی آسکتے ہیں جن کی تجارت ملک کے لئے مفید ہو۔مگر کسی اتفاقی حادثہ کی وجہ سے ان کا نقصان ہو جائے اور تجارت بند ہو جانے کا خطرہ ہو۔ایسی صورت میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو روپیہ دے تا کہ وہ اپنی تجارت کو بحال کر کے ملک کو فائدہ پہنچاسکیں۔ساتویں مدفی سبیل اللہ کی ہے۔اس مد میں وہ تمام کام شامل ہیں۔جو قومی یا ملکی تنظیم ، استحکام، حفاظت یا ان کی ترقی کے لئے کئے جائیں۔اس میں فوجیں بھی شامل ہیں اور تعلیم بھی شامل ہے۔سڑکیں، ہسپتال اسی قسم کے وہ تمام کام جو صرف کسی فرد کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ تمام قوم کے لئے ہوتے ہیں۔شامل ہیں۔فقراء، مساکین، عاملین علیہا، مؤلفتہ القلوب اور غار مین کے ذکر میں درحقیقت فردی امداد کا ذکر ہے۔اور اس کے بعد ابن السبیل کا لفظ رکھ کر یہ بتایا گیا ہے کہ بعض اوقات ایسے کام پیش آ جاتے ہیں جو کسی فرد کی طرف منسوب نہیں کئے جاسکتے۔بلکہ قوم کی طرف یا ملک کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور اس قسم کے کاموں میں اجتماعی خرچ ہوتا ہے جو ملک اور ملت کے استحکام اور ترقی کے لئے کیا جانا ضروری ہوتا ہے چونکہ ایسے خرچ کئی قسم کے ہو سکتے ہیں اس لئے اس کی تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ایک مجمل اور جامع لفظ رکھ دیا تا کہ ضرورت پیش آنے پر ذمہ وارلوگ اس کو خرچ کرسکیں۔