فرموداتِ مصلح موعود — Page 146
۱۴۶ زكوة سوال:۔ایک دوست نے دریافت کیا کہ زکوۃ دارالامان بھیجوں یا یہیں کسی غریب کو دی جاسکتی ہے؟ جواب: فرمایا:۔زکوۃ امام کے پاس جمع ہونی چاہئے۔اجازت سے وہاں خرچ ہوسکتی ہے۔الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۱۵ء۔جلد نمبر ۱۱۳) حضور نے ایک شخص کو لکھوایا کہ زکوۃ کا زیادہ پسندیدہ امر یہی ہے کہ آپ وہاں کی انجمن میں جمع کروا کر ترقی اسلام میں بھجوا دیں۔اگر کوئی شخص اس مقام میں مستحق زکوۃ ہو تو اس کا نام بذریعہ سیکرٹری انجمن مقامی بھیج دیں یہاں سے اس کو زکوۃ کا روپیہ بھیج دیا جائے گا۔اس طرح ایک نظام قائم رہتا ہے۔ایک صاحب کو لکھوایا کہ لڑکی کو زکوۃ دی جاسکتی ہے۔الفضل ۱۳ جون ۱۹۱۵ء - جلد ۲ - نمبر۱۵۲) الفضل ۲۷ مئی ۱۹۱۵ ء - جلد ۲ نمبر ۱۴۵) تجارتی اموال پر زکوة زکوۃ جو ہر امیر پر واجب ہے۔ہر شخص جو کوئی روپیہ اپنے پاس جمع کرتا ہے یا جانور تجارت کے لیے پالتا ہے اس پر ایک رقم مقرر ہے۔اسی طرح ہر کھیتی کی پیداوار پر ایک رقم مقرر ہے۔کھیتی کی پیداوار پر دسواں حصہ اور تجارتی مال پر انداز ڈاڑھائی فیصدی۔یہ 212 فیصدی صرف نفع پر نہیں دیا جاتا بلکہ رأس المال اور نفع سب پر دیا جاتا ہے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ اسلام اس ذریعہ سے روپیہ جمع کرنے کو روکنا چاہتا ہے۔زمین کے لیے دسواں حصہ اور تجارتی مال کے اوپر اڑھائی فیصدی میں جو فرق ہے یہ بظاہر غیر معقول نظر آتا ہے مگر در حقیقت اس میں بڑی بھاری حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ زمین کی