فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 126

۱۲۶ نماز جنازه قیامت کو مانتے ہیں۔میں مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتا، ان کو ریفارمر سمجھتا ہوں۔جواب : فرمایا۔چونکہ عدالتی گواہی تحریری ہے ایسا شخص فوت ہو تو اس کا جنازہ اپنے امام کے پیچھے پڑھنے میں حرج نہیں۔دستخط مرزا محمود احمد - ۱۳/۱۱/۵۴ (فائل مسائل دینی A-32) عبدالکریم صاحب ڈار لکھتے ہیں کہ والد صاحب عموماً بیمار رہتے ہیں۔ان کی عمر ۹۰ سال کے قریب ہے۔اگر چہ احمدی نہیں لیکن احمدیوں کو برا نہیں سمجھتے اور ہمارے کئی جلسوں میں بھی قادیان آتے رہتے ہیں ان کے جنازہ کے متعلق استفسار ہے کہ ہم ان کی اولاد جو ساری کی ساری احمدی ہے۔اسے ایسے موقع پر کیا رو بیا تیار کرنا چاہئے؟ فرمایا۔کہ ابھی یہ مسئلہ زیر غور آنا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر کے مطابق اگر ان کے بیٹے اپنے میں سے ایک کو امام بنا کر جنازہ پڑھ لیں تو جماعت کو اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔جماعت اس لئے نہیں پڑھ سکتی کہ اسے حالات کا علم نہیں ہوسکتا۔ایک خط کے جواب میں فرمایا :۔فائل مسائل دینی DP 12059/15۔2۔54-32-A) ان کو لکھا جائے کہ خواب آنا اور ان کی والدہ کا نذرانہ دینا کافی ہے۔جب اس نے مخالفت چھوڑ دی اور چندہ دیا تو پھر حضرت خلیفہ اول کا فتویٰ ہے کہ جو مخالفت نہ کرے اس کا جنازہ جائز ہے۔(فائل مسائل دینی RP 13308/7۔3۔56-32-A) جنازہ ہم ایسے شخص کا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک کرنے والا نہ ہو یا مکفرین کے پیچھے نماز پڑھنے والا نہ ہو جائز سمجھتے ہیں مگر ہر جائز کام ہر ایک نہیں کرتا۔شخصی ضرورتوں یا مجبوریوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔فائل مسائل دینی A-2۔10۔54-32)