فرموداتِ مصلح موعود — Page 125
۱۲۵ نماز جنازه غیر احمدی بچے کاجنازه سوال:۔کیا آپ نے انوار خلافت کے صفحہ ۹۳ پر کہا کہ اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔وہ تو مسیح موعود علیہ السلام کا مکفر نہیں؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔جواب:۔ہاں لیکن یہ بات میں نے اس لئے کہی تھی کہ غیر احمدی علماء نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ احمدیوں کے بچوں کو بھی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔واقعہ یہ ہے کہ احمدی عورتوں اور بچوں کی نعشیں قبروں سے اُکھاڑ کر باہر پھینکی گئیں۔چونکہ ان کا فتویٰ اب تک قائم ہے اس لئے میرا فتویٰ بھی قائم ہے۔البتہ اب ہمیں بانی سلسلہ کا ایک فتوی ملا ہے جس کے مطابق ممکن ہے کہ غور و خوض کے بعد پہلے فتویٰ میں ترمیم کر دی جائے۔ایک صاحب نے سوال کیا کہ ایک شخص حضرت اقدس کو بزرگ سمجھتا تھا مگر جماعت میں شامل نہ تھا کیا اس کا جنازہ پڑھ لیں؟ جواب : فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بیٹے فضل احمد کی وفات پر آنسو بہائے اور فرمایا کہ اس نے ہماری کبھی مخالفت نہیں کی تھی ہمیشہ فرمانبردار رہا۔باوجود اس کے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔الفضل ۱۴ فروری ۱۹۱۵ء نمبر ۱۰۴) بیان عبدالحمید شاہ صاحب ابن میر حامد علی شاہ صاحب جو عدالت میں دیا میں غیر احمدی ہوں۔احمدی نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، احمدی حج کرنے کے واسطے جاتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، خدا کی وحدانیت کو مانتے ہیں اور رسول اکرم کو اس کا رسول مانتے ہیں،