فرموداتِ مصلح موعود — Page 120
۱۲۰ نماز جنازه احمدیت۔بیعت کی اہمیت ایک صاحب نے لکھا لوگ مجھے کہتے ہیں اگر اس جماعت میں بیعت کی اور مرگیا تو یہاں پر کوئی نماز جنازہ بھی نہ پڑھے گا ؟ جواب :۔فرمایا۔اسے لکھ دو جب حق مل گیا تو جنازہ نہ پڑھا جاوے (وہ بھی اہل باطل کی طرف سے) تو بھی کچھ حرج نہیں۔غیر مبائع کاجنازه (الفضل ۲۵ / مارچ ۱۹۱۵ء نمبر ۱۱۸) سوال:۔غیر مبائع جس کا جنازہ غیر احمدی نہ پڑھیں تو کیا ہم احمدی اس کا جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟ جواب :۔اگر کسی جگہ پر کوئی غیر مبائع حضرت صاحب کی نبوت کا صاف لفظوں میں منکر نہ ہو بلکہ تاویل سے کام لیتا ہو اور بد گونہ ہو تو ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس کا جنازہ پڑھ دیا کریں۔جبکہ اس کے ہم خیال جنازہ پڑھنے والے نہ ہوں یا نہ پڑھیں یا کسی کا رشتہ دار یا قریبی نہ ہو۔الفضل ۱۹ رجون ۱۹۱۷ء۔نمبر ۱۰۰) سوال :۔کیا غیر مبائعین احمدی اصحاب کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے یا نہیں؟ جواب :۔جائز ہے بلکہ اگر کوئی اور جنازہ پڑھنے والا نہ ہو تو واجب ہے۔( الفضل ۲۲ مئی ۱۹۲۲ء۔نمبر ۹۱) سوال:۔میرے بہنوئی ڈاکٹر ایس ایم عبداللہ انچارج دوو کنگ مشن لندن گو غیر مبائع تھے مگر بے حد شریف الطبع اور حضور کا ذکر نہایت ادب اور احترام سے کرنے والے۔کیا میں ان کا جنازہ غائبانہ مولوی صدرالدین صاحب یا کسی غیر مبائع کے پیچھے پڑھ لوں یا الگ پڑھ لوں؟ جواب :۔مولوی صدرالدین صاحب غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں اس لیے ان کے