فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 119

۱۱۹ نماز جنازه مسئله جنازه مجلس افتاء نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خط بجواب جناب مولا بخش صاحب سیالکوٹی مورخه ۲۳/۲/۱۹۰۲ ( جس کا متن آخر میں درج ہے) پر غور کیا ہے اس خط کے علاوہ باقی سب حوالہ جات مسئلہ جنازہ کی حقیقت مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب میں موجود ہیں ان کو بھی دوبارہ دیکھا گیا۔مجلس کے نزدیک اس خط میں مشتبہ الحال شخص سے مراد ایسا شخص ہے جو اگر چہ با قاعدہ طور پر جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مکذب بھی نہ ہو بلکہ احمدیوں سے میل جول رکھتا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق ان کی ہاں میں ہاں ملا کر ایک گونہ تصدیق کرتا ہو ایسے شخص کے جنازہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظاہراً کوئی حرج نہیں سمجھا۔اگر چہ انقطاع کو بہتر قرار دیا ہے۔جماعت احمدیہ کا عمل ایسے شخص کے بارہ میں بھی حضور کے ارشاد کے آخری حصہ پر ہے۔یعنی انقطاع کو بہر حال بہتر خیال کیا گیا ہے۔مناسب حالات میں پہلے حصے پر بھی عمل کرنے میں کچھ حرج نہیں (جس کی اجازت لی جاسکتی ہے بشرطیکہ امام احمد یوں میں سے ہو۔اگر نماز جنازہ میں امام احمدی نہ ہوسکتا ہو تو پھر ایسے شخص کے جنازہ کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط مؤرخہ ۲۳/۲/۱۹۰۲ جو شخص صریح گالیاں دینے والا ، کافر کہنے والا اور سخت مکذب ہے اس کا جنازہ تو کسی طرح درست نہیں مگر جس شخص کا حال مشتبہ ہے گویا منافقوں کے رنگ میں ہے۔اُس کے لئے کچھ ظاہراً حرج نہیں ہے کیونکہ جنازہ صرف دعا ہے اور انقطاع بہر حال بہتر ہے۔فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا (فیصلہ نمبر ۱۱-۲۲/۷/۱۹۶۳)