فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 94

۹۴ اسلامی عبادات اور مسجد میں طلباء کے نگران نے سوال کیا کہ امتحان دینے کے لئے جو طلباء بٹالہ جارہے ہیں وہ نمازیں جمع اور قصر کریں یا نہیں۔پہلے ہم کرتے رہے ہیں؟ جواب :۔فرمایا۔چونکہ سفر کے کوسوں اور مدت رہائش (تین ہفتہ سے پندرہ روز ) میں بھی اختلاف ہے اس لئے جو قصر کرتے ہیں وہ قصر کریں جو نہیں کرتے نہ کریں۔ایک دوسرے پر اعتراض نہ ہو۔ہاں جمع کے سوا چارہ نہیں کیونکہ امتحان ہے۔سوال :۔نماز کس وقت تک قصر کی جاوے؟ الفضل ۲۲ را پریل ۱۹۱۵ء) جواب :۔جب تک سفر ہو قصر کر سکتے ہیں اور اگر کہیں ٹھہر نا اور پندرہ دن سے کم ٹھہر نا ہوتو بھی قصر کریں اور اگر پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنا ہو تو پوری پڑھیں۔(الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۶ء) میں نماز قصر کر کے پڑھاؤں گا اور گو مجھے یہاں آئے چودہ دن ہو گئے ہیں مگر چونکہ علم نہیں کہ کب واپس جانا ہوگا۔اس لئے میں نماز قصر کر کے ہی پڑھاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ گورداسپور میں دوماہ سے زیادہ عرصہ تک قصر نماز پڑھتے رہے کیونکہ آپ کو پتہ ہی نہیں تھا کہ کب واپس جانا ہوگا۔الفضل ۲۵ رمئی ۱۹۴۴ء۔نمبر ۱۲۱) سوال :۔قادیان میں جولوگ بطور مہمان آتے ہیں کیا انہیں نماز قصر کرنی چاہئے؟ جواب:۔انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ مسجدوں میں جاکر باجماعت نماز ادا کریں۔اگر وہ باجماعت نماز پڑھنے سے رہ جاتے ہیں تو قصر کر سکتے ہیں۔وہ قادیان میں جو سنتیں پڑھیں گے وہ نفل ہو جائیں گی۔پس یہاں عبادت جتنی زیادہ سے زیادہ ہو سکے کرنی چاہئے۔(الفضل، ار جولائی ۱۹۳۴ء نمبر ۵)