فرموداتِ مصلح موعود — Page 93
۹۳ اسلامی عبادات اور مسجد میں پیدا ہی نہیں ہوتا۔کیونکہ جتنی نماز پہلے پڑھی جاتی تھی سفر میں اتنی ہی پڑھی جاتی ہے لیکن جو لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیم ہیں ان کو دوگنی پڑھنی پڑتی ہے۔قرآن کریم میں جو قصر کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ سفر کی نمازوں کے متعلق نہیں لیکن مسلمانوں نے اپنی غلطی سے اسے سفر کی نمازوں کے متعلق سمجھ لیا۔یہی وجہ ہے کہ انہیں قصر کے معاملہ میں غلط فہمی ہوئی اور وہ غلط راستہ پر جا پڑے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر تمہیں خوف ہو تو تم نمازوں کو قصر کر سکتے ہو۔اس سے مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر امن ہو تو پھر مسافر کے لئے قصر کرنا جائز نہیں۔حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ سفر میں اتنی ہی نماز پڑھی جاتی ہے جتنی پہلے پڑھی جاتی تھی۔البتہ حضر میں وہ دوگنی کر دی گئی ہے۔الفضل ۶ / مارچ ۱۹۵۱ء۔خطبہ جمعہ ) نماز قصر - سفرمیں نماز سوال :۔مجھے اپنے کام کے سلسلہ میں اکثر کئی کئی کوس پیدل چلنا پڑتا ہے۔کیا میں نماز قصر اور روزہ افطار کر سکتا ہوں؟ جواب :۔جس کا پیشہ اور ملازمت ہی ایسی ہو کہ اس میں سفر کرنا پڑتا ہواس کے لئے نماز کا قصر اور روزہ کا قضاء کرنا جائز نہیں۔(الفضل ۱۵؍ جولائی ۱۹۱۵ء صفحہ۱ ) سوال : مبلغین نے پوچھا کہ ہم سفر میں رہتے ہیں روزہ افطار اور نماز قصر کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب :۔سفر چھوٹا کر دو۔روزے برابر رکھو۔یہ آپ لوگوں کا فرض منصبی ہے۔اس لئے آپ سفر پر نہیں سمجھے جاسکتے۔(الفضل ۱۶ جولائی ۱۹۱۴ء)