فرموداتِ مصلح موعود — Page 85
۸۵ اسلامی عبادات اور مسجد میں شام اور شفق صبح کے درمیان امتیاز نہ ہو سکے۔گویا درمیان میں غسق حائل نہ ہو۔سال کے جن ایام میں یہ حرج واقع نہ ہو ان میں معروف شرعی اوقات کی پابندی ضروری ہو جائے گی اور ان ایام کے لئے وہ علاقے غیر معمولی قرار نہیں دیئے جائیں گے۔۔غیر معمولی علاقوں میں نماز کے اوقات اندازہ سے مقرر کرنے کے بارہ میں اصولی ہدایات غیر معمولی علاقوں میں نماز کے اوقات مندرجہ ذیل اصولی ہدایات کی روشنی میں متعین کئے جائیں۔الف:۔موقتہ نمازوں کے اصل اوقات وہی ہیں جوطلوع وغروب اور سورج کے دوسرے افقی تغیرات کے مطابق عام معروف طریق سے متعین ہوتے ہیں۔اس لئے جن نمازوں میں ممکن ہو اسی طریق کی پابندی کی جائے۔ب:۔جہاں ایسا کرنا ممکن نہ ہو وہاں مقامی حالات کو مد نظر رکھ کر نمازوں کے اوقات چوبیں گھنٹوں کے اندر اس طرح پھیلائے جائیں کہ وہ پانچوں نمازوں کے معروف اوقات سے حتی الوسع ملتے جلتے ہوں۔یہ نہ ہو کہ دن یا رات کے کسی ایک حصہ میں وہ اکٹھے ہوں اور ایک دوسرے کے بالکل قریب واقع ہوں۔(الفضل ۶ را گست ۱۹۶۳ء - صفحه ۳) فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور انور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۱۰) تھوڑے دن ہوئے انگریزی اخبارات میں ایک تار چھپا تھا بعد میں اس کا ترجمہ اردو اخبارات میں بھی چھپ گیا تھا۔اس میں بتایا گیا تھا کہ فن لینڈ کے مسلمانوں نے مصر کی از ہر یونیورسٹی کے علماء سے ایک خط کے ذریعہ دریافت کیا ہے کہ آج کل ہمارے ملک کے لحاظ سے ۲۲ گھنٹوں کا ایک دن ہوتا ہے اس صورت میں ہم رمضان کے روزے کس طرح رکھیں؟ ہندو اور انگریزی اخبارات نے ایسے انداز سے اس پر تنقید کی تھی گویا یہ ایک ایسا مشکل سوال ہے جس کا اسلام میں کوئی حل موجود نہیں۔بہر حال یہ اعتراض ان پر بھی پڑتا ہے کیونکہ بعض علاقوں میں چھ چھ مہینوں کا ایک دن بھی ہوتا ہے۔اب ایسے علاقوں میں وہ کس طرح روزہ رکھ سکتے ہیں؟