فیضان نبوت — Page 79
۷۹ ختم نبوت اور کمیل دین بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آیت کر یمیر :- الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسلام دينا - رائد آیت ٤) کے ذریعہ چونکہ دین کے اکمال اور نعمت کے اتمام کا اعلان ہو چکا ہے اس لئے اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔سو اس بارے میں یاد رکھنا چاہیئے کہ اس آیت میں جمع مخاطب رحم کی ضمیر استعمال کی گئی ہے اور اس خطاب میں امت مسلمہ کے وہ تمام افراد شامل ہیں جن کو قیامت تک پیدا ہونا ہے اور جب دین کی انہیں کے لئے تکمیل کی گئی ہے تو ظاہر ہے کہ نعمت کا اتمام بھی انہیں کے لئے کیا گیا ہو گا۔پس جس طرح ان کو اسلام کے ذریعہ کامل دین ملے گا ویسے ہی ان کو اسلام کے ذریعہ نبوت کی نعمت بھی پوری پوری ملے گی۔علاوہ ازیں اس ضمیر مخاطب لکھ میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے سوا نہ کسی اور اقت کو کامل دین ملا ہے اور نہ ہی پوری پوری نعمت مل سکتی ہے گویا آئندہ آنیوالا نہی امت محمدیہ سے ہی آئے گا نہ کہ کسی دوسری اقد سنتے