فیضان نبوت

by Other Authors

Page 77 of 196

فیضان نبوت — Page 77

قَوْله تَعَالَى خَاتَمَ النَبِيْنَ إِذَا الْمَعْنَى أَنَّهُ لا ياتي بعدها نَبِيَّ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِن أمته (موضوعات كبير ص49 یعنی خاتم النبیین کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا ہو اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔۲۔بارھویں صدی کے مجد د حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں:- خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ رَى لا يُوجَدُ مَنْ يَأْمُرُهُ الله سُبْحَانَهُ بِالنَّشْرِيعِ عَلَى النَّاسِ " رتضیمات المیہ جلد ۲ ص یعنی آنحضرت کے خاتم النبیین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اب کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا جسے اللہ تعالے لوگوں کے لئے شریعت دے کر مامور فرمائے یعنی اگر آئندہ نبی آئے گا تو بغیر نئی شریعت کے۔جناب مولنا عبدالحئی صاحب فرنگی محلی لکھتے ہیں:۔بعد آنحضرت کے یا زمانے میں آنحضرت کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شریع جدید ہونا البتہ متنع ہے۔دو ساله دافع الوسواس صلا)