فیضان نبوت

by Other Authors

Page 68 of 196

فیضان نبوت — Page 68

اللہ تعالیٰ کے وسیع اور کامل علم پر اعتراض کرنا ہے اور اگر اسکا وسیع اور کامل علم قابل اعتراض نہیں تو پھر اس کے رسول کا یہ فعل جو مینٹی کی مطلقہ سے نکاح کرنے کی صورت میں ظاہر ہوا یہ بھی قابل اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ احکام شریعت کا چشمہ اللہ تعالیٰ کے وسیع او کامل علم سے ہی پھوٹتا ہے۔آیت خاتم النبیین کا دوسرا پہلو جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے عہد نبوی کے مخالفین نے عجیب دوش اختیار کر رکھی تھی۔ایک طرف تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ابتوت کا اثبات کر کے یہ اعتراض کیا جاتا کہ محمد زید کا باپ ہے اور بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنا جائزہ نہیں۔حالانکہ آپ زید کے باپ نہ تھے اور دوسری طرف آپ کی ابوت کی نفی کر کے ابتر کا اعتراض اٹھایا جانا کہ شخص جو کہ نرینہ اولاد نہیں رکھتا اس لئے اس کے مذہب کا سلسلہ اس کی زندگی تک ہی جاری رہ سکتا ہے جب یہ مرگیا تو ساتھ ہی اس کے مذہب کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔حالانکہ نبیوں کے سلسلہ کی بقا جسمانی اولاد سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے قیام کے لئے روحانی اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔الغرض مخالفین نے افراط و تفریط کی راہ اختیا کر کے ایک طرف ابوت جسمانی کے اثبات کی بناء پر اعتراض کیا اور دوسری طرف ابوت روحانی کی نفی کی بناء پر اعتراض اٹھایا اور اعتراض