فیضان نبوت — Page 67
غور فرمائیے کیا اس اعتراض کے جواب میں کہ آنحضرت کا اپنے متمنی کی مطلقہ سے نکاح کرنا جائز نہ تھا یہ کہنا کہ محمد اخری نبی ھے مناسب اور برمحل ہو سکتا ہے؟ اور کیا اس سے اعتراض کی تردید ہو جاتی ہے ؟ اگر ہو جاتی ہے تو کر کے دکھائیں کہ مخالفین کا متبنی کی مطاقہ کیے نکاح کے متعلق اعتراض کرنا غلط ہے۔کیوں غلط ہے ؟ اس لئے کہ یہ محضر آخری نبی ہیں۔کیا معمولی سوجھ کو جھے رکھنے والا انسان بھی اس اعتراض کے جواب میں یہ فقرہ کہہ سکتا ہے چہ جائیکہ خدائے علیم و حکیم کی طرف یہ فقرہ منسوب کیا جائے۔اس آیت کا چوتھا حملہ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْ ءٍ عَلِيمًا ہے۔اور اس میں اللہ تعالے نے اپنے کامل علم کو پیش کر کے اس اعتراض کی تردید کی ہے اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالے چونکہ ہر ایک جن کا علم رکھنے والا ہے اس لئے دہی اس امر کو صحیح طور پر جانتا ہے کہ بنی نوع انسان کے لئے کونسی چیز مفید ہے اور کونسی چیز مضر ہے۔پس اس کا اپنے وسیع اور کامل علم سے یہ قانون پاس کرنا کہ متبعی کی مطلقہ سے نکاح کرنا جائز ہے قابلِ اعتراض نہیں ہو سکتا۔الغرض اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخری جملہ میں اپنے وسیع اور کامل علم کو پیش کر کے بتایا کہ محمد رسول اللہ پر ایسے فعل کی وجہ سے اض کرنا جو آپ کے منصب رسالت سے تعلق رکھتا ہے دراصل