فیضان نبوت — Page 12
۱۲ ہے۔باقی رہی وہ جنگیں جو وقتاً فوقتاً بانیان مذاہب کو کرنا پڑی ہیں تو معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ جنگیں یا تو دفاعی نوعیت کی تھیں یا قیام امن کے لئے یا مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لئے کی گئی تھیں۔ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی انصاف پسند انسان ان جنگوں کی وجہ سے مذہب کو قابل مذقت قرار نہیں دے سکتا۔اور اگر بعض لوگوں نے مذہب کا نام کے کر اپنے ذاتی مفاد کے لئے جنگیں کی ہیں تو ان کی وجہ سے بھی مذہب پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا بلکہ ان لوگوں کا ہی جرم ثابت ہوتا ہے جنھوں نے مذہب کا استحصال کیا۔اور پھر اعتراض کر نیوالوں کو یہ بھی خیال کرنا چاہیئے کہ اگر مذہب کے نام پر چند خود غرض لوگوں کا جنگ کرنا قابل نفرت فعل ہے اور بقول ان کے یہ بات ان کو ترک مذہب پر مجبور کرتی ہے تو کیا آئے دن جو جنگیں دنیا داروں کے درمیان محض دنیوی مفادات کی خاطر ہوتی رہتی ہیں وہ اُنکی جنگ و جدل انسان کی جبلت ہے لیکن عجیب بات ہے جب یہی جنگ اتفاقاً مذہبی طبقات میں چھڑ جاتی ہے تو لوگ مذہب دشمنی کی وجہ سے اس کی ذمہ داری سجائے انسانوں کے اس مذہب پر ڈال دیتے ہیں جو نہ سب اتفاقا ان لڑنے والوں کا ہوتا ہے حالانکہ مذہب صرف دفاعی جنگ کی اجازت دنیا ہے اور وہ بھی حدود و قیود کے اندر۔کیا مذہب اسلام سے قبل عرب قبائل نہیں لڑتے تھے اور کیا ان کی جنگیں مذہب کی خاطر ہوتی تھیں ؟