فیضان نبوت

by Other Authors

Page 119 of 196

فیضان نبوت — Page 119

119 میں یہ ارشاد ہے :- ومَن يطع الله وَالرَّسُولَ فَا وليكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ البين و الصديقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَ حَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا - (آیت ٤) یعنی جو لوگ اللہ کی اور اس کے اس رسول کی اطاعت کرینگے وہ ان لوگوں میں شامل ہونگے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین ہیں اور یہ حضرات بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطات سے انسان نہ صرف صالح شہید اور صدیق بن سکتا ہے بلکہ نبوت کا مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔(صلی اللہ علیہ وسلم) الغرض آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ان معنوں میں خاتم النبین نہیں کہ آئندہ آپ کے ذریعہ کسی کو کوئی روحانی انعام حاصل نہیں ہو سکتا۔بلکہ آپ ان معنوں میں خاتم النبیین ہیں کہ تمام مراتب کمال آپ پر ختم نہیں اور جو اوصاف پہلے نبیوں میں جزوی طور پر پائے جاتے تھے وہ آپ میں مجموعی طور پر پائے جاتے ہیں اور آپ کا دائرہ استعداد اور قوت افاضہ تمام نبیوں کے دائرہ استعداد اور قوت افاضہ سے بڑھ کر ہے۔اگر پہلے نبیوں کے فیض سے ان کی روحانی اولاد