فیضان نبوت — Page 104
۱۰۴ کیوں ؟ ان سادہ مزاجوں سے کوئی اتنا تو پوچھے فیضانِ خدا وند بھی ہوتے ہیں کبھی بند رختن رہتاسی) قرآن کریم میں اللہ تعالے پیغمبروں کے بارے میں فرماتا ہے :- لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِه - (بقره آیت (۳۸۷) یعنی رسولوں میں کوئی فرق نہیں وہ اپنی اصل کے لحاظ سے ایک ہی ہیں۔اور حدیث میں آتا ہے:- الأنبياءُ الْحَوَل لِعَلَّاتِ أُمَّهَا تَهُمْ شَتَّى دينهم واحد - (بخاری) کے حاشیہ منا :- حضرت امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں :- وَلَمَّا كَانَ الْخَلْقَ مُحْتَاجِينَ إِلَى البَعْثَهُ وَالرَّحيم الكوتيمُ قَادِرًا عَلَى الْبَعْثَةِ وَجَبَ فِي كَرَمِهِ ورحمتهِ أنْ يَبْعَثَ الرُّسُلَ إِلَيْهِمْ " ( تفسیر کبیر جلد 11 م192) جب مخلوق انبیاء کی محتاج ہے اور رحیم و کریم خدا بعثت پر قادر بھی ہے تو اس کے کرم اور رحمت کی رو سے واجب ہوا کہ وہ ان کی طرف رسول بھیجے ہے