فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 24
پاسکتا ہے۔" 24 ( حقیقته الوحی صلح ) - " حضرت افضل الرسل خير الراحل فخر الريسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو چھوڑ کر اور اس کی پاک اور کامل حدیث اور خدا کا سیانور اور بلاریب کلام ترک کرکے پھر اور کونسی بناہ ہے جس طرف رخ کریں اور اس سے زیادہ کونسا چہرہ پیارا ہے جو ہماری دلبری کرے۔" (احکم ۸ نومبر ۱۹۸ صفحه ۲) " بلا شبہ کلام الہی سے محبت رکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبہ سے عشق پیدا ہونا اور اہل اللہ کے ساتھ حُب صافی کا تعلق حاصل ہوتا یہ ایک ایسی بزرگ نعمت ہے جو خدا تعالی کے خاص اور مخلص بندوں کو ملتی ہے اور دراصل بڑی بڑی ترقیات کی یہی بنیاد ہے اور یہی ایک قسم ہے جس سے ایک بڑا درخت یقین اور معرفت اور قوت ایمانی کا پیدا ہوتا ہے اور محبت ذاتیہ جل شانہ کا پھل اس کو لگتا ہے۔覽 (الحکم ۳۔مارچ 49 صفحہ ۳) میں خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت اور ہم جو کچھ ہیں اس حال میں اللہ تعالی کی تائید اور نصرت ہمارے شامل حال ہو گی کہ ہم صراط مستقیم پر چلیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل بچی اتباع کریں ، قرآن شریف کی پاک تعلیم کو اپنا دستور العمل بنا دیں اور ان باتوں کو ہم اپنے عمل اور حال سے ثابت کریں نہ صرف قال سے۔اگر ہم اس طریق کو اختیار کریں گے تو یقیناً یاد رکھو کہ ساری دنیا بھی مل کر ہم کو ہلاک کرنا چاہے تو ہلاک نہیں ہو سکتے۔اس لئے کہ خدا ہمارے ساتھ ہو گا"۔اور فرمایا بعداز (احکم ۲۴ تمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۴) خدا بحق محمد عمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم