فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 17
17 تعالی کا نور برستا ہے تو ان کے طفیل ان بستیوں پر بھی خدا تعالی کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی ہیں ان بستیوں کو مکہ ومدینہ کے ہم مرتبہ قرار دینے کا نعوذ باللہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چنانچہ حاجی امداد اللہ مہاجر کی فرمایا کرتے تھے۔یہ فقیر جہاں رہے گا وہیں مکہ اور مدینہ اور روضہ ہے " خیر الافادات ( ملفوظات مولانا اشرف علی تھانوی ) ناشر ادارہ اسلامیات لاہور۔اگست ۶۸۲ ) اسی طرح شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مولوی رشید احمد گنگوہی کے مرعبہ میں کہا۔پھریں تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوہ کا رستہ جو رکھتے اپنے سینوں میں تھے ذوق و شوق عرفانی تشبیه تمہاری تربت انور کو دیگر طور سے کہوں میں بار بار ارنی ، میری دیکھی بھی نادانی اب بتائیں ، سادہ اہل اسلام کو اشتعال دلانے والے ملاں خصوصا وہ جو دیوبندی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے نہایت محترم بزرگ کے یہ الفاظ ہیں۔ان پر آپ کو کفر کا فتویٰ لگانا کیوں یاد نہیں رہا اور کیوں ان کے خلاف اور ان کو مانے والے سب دیو بندیوں کے خلاف آگ بھڑ کانے کا خیال نہیں آیا۔بیہ الفاظ تو بہت ہی خطرناک ہیں جو دیوبندیوں کے نہایت محترم بزرگوں نے بڑے طمطراق سے بیان کئے ہیں۔حقیقت میں اگر گستاخی کی گئی ہے تو یہ ہے کہ باہر کی بستیاں مگہ سے برکات حاصل نہیں کر رہیں۔بلکہ مکہ کی مقدس گلیوں میں ، جو ہماری مقدس آقا و مولی محبوب کبریا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم چوما کرتی تھیں، مذکور مولانا صاحب کے نزدیک اہل ایمان کو اس وقت تک چین نہیں آ سکتا جب تک گنگوہ کا رستہ نہ پوچھ لیں۔یعنی مکہ اور بیت اللہ قبلہ نما ہیں تو قبلہ گنگوہ کا قصبہ بن گیا۔مزید تحریریں ملاحظہ فرمائیں۔علامہ اقبال نے ہندوستان کے متعلق لکھا۔گوتم کا جو وطن ہے جاپان کا حرم ہے میسی کے عاشقوں کا چھوٹا پیرو علم ہے باقیات اقبال صفحہ ۳۲۸ - ناشر آئینہ ادب چوک مینار۔انار کلی لاہور۔طبع دوم ۱۹۴۷ء )