فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 16 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 16

16 - قادیان تمام بستیوں کی اتم (ماں) ہے پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاتا جائے گا۔تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟ ( حقیقته الرویا صفحه ۴۶ ) - جو تاریان نہیں آتا یا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا۔اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو۔قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے انداوی القریہ فرمایا یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام ( مرزا) بھی فرماتے تھے کہ : زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے منصب خلافت صفحه ۳۳ مصنفہ مرزا بشیر الدین ) " قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ مدینہ اور قادیان کا۔" (خطبه الهامیه صفحه ۲۰ حاشیه )۔یہ عبارتیں نامکمل تحریر کی گئی ہیں۔اور تلبیس سے کام لیتے ہوئے یہ بھی نہیں بتایا کہ خطبہ الہامیہ والی عبارت ایک کشف کا بیان ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ گویا قادیان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرح برکتوں کے نزول کی جگہ قرار دے کر ان مقدس ہستیوں کی تو نہین کی ہے۔اگر کوئی تعصب کے زہر سے بھری نظر سے دیکھے تو اس سے ہماری بحث نہیں لیکن عام شریف النفس انسان سمجھ سکتا ہے کہ قادیان کے بارہ میں جو الفاظ ہیں ان سے بہت زیادہ قوت سے حضرت صوفی کامل خواجہ غلام فرید علیہ الرحمتہ کے موطن چاچڑاں شریف کا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ ان کے ایک مرید نے جو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا وہ آج سرائیکی علاقہ میں زبان زد عام ہے کہ چاچڑ وانگ مدینہ ڈسے کوٹ مٹھن بیت اللہ ظاہر و بے وچہ یار فرید باطن دے ورچ اللہ اس ذکر کو نہ اس وقت کسی نے محل اعتراض سمجھا نہ اب سمجھا جا سکتا ہے۔ہر معقول آدمی مجھ سکتا ہے کہ یہ باتیں تیر کا بیان کی جاتی ہیں اور یہ ظاہر کرنا مقصور ہوتا ہے کہ مکہ و مدینہ پر خدا