درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 72

اسے غافلو! یہ باتیں سراسر دروغ ہیں بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں ہے یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آپکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا اب سال سترہ بھی صدی سے گذر گئے تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمھیں کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمھیں پر تم نے اُن سے کچھ بھی اٹھایا نہ فائدہ منہ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائده سخنوں سے یارو باز بھی آؤ گے یا نہیں تو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں اب منذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں منفی جو دل میں ہے وہ سناؤ گے یا نہیں آخر خُدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں اُس وقت اُس کو منہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استعمال لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت سیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور تیح ہے ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خُدا (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۳، مطبوع نشاه/ روحانی خزائن جلد احت) 72