درثمین مع فرہنگ — Page 67
تمھیں کس نے یہ تعلیم خطا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِى وہ آیا منتظر تھے جس کے دن رات معمہ کھل گیا روشن ہوئی بات دکھائیں آسماں نے ساری آیات زمیں نے وقت کی دے دیں شہادات پھر اس کے بعد کون آئے گا بیہات خدا سے کچھ ڈرو چھوڑو معادات خُدا نے اک جہاں کو یہ سُنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مسیح وقت اب دنیا میں آیا خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا مُبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی نے ان کو ساقی نے پلا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي خدا کا تم پہ بس لطف وکرم ہے دہ نعمت کون سی باقی جو کم ہے زمین قادیاں اب محترم ہے مجوم خَلق سے ارضِ حرام ہے مجبور عون و نفرت اقدام ہے حد سے دشمنوں کی پشت خم ہے ستو اب وقت توحید اتم ہے رستم اب مائل ملک عدم ہے خُدا نے روک ظلمت کی اُٹھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِى 67 (الحکم - د سمیرانشاه)