درثمین مع فرہنگ — Page 54
میرے مولیٰ مری یہ اک دُعا ہے تری درگاہ میں بیجز و بکا ہے وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھیرا ہے زباں چلتی نہیں شرم وحیا ہے مری اولاد جو تیری عطا ہے براک کو دیکھ لوں وہ پارسا ہے تری قدرت کے آگے روک کیا ہے وہ سب دے اُن کو جو مجھ کو دیا ہے عجب محسن ہے تو بخر الاآبادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي نجات اُن کو عطا کر گندگی - سے بات اُن کو عطا کر بندگی سے رہیں خوش حال اور فرخندگی سے بچانا اے خدا ! بد زندگی سے وہ ہوں میری طرح دیں کے منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي عیاں کر اُن کی پیشانی پر اقبال نہ آوے اُن کے گھر تک رُعب دقبال بچانا اُن کو ہر غم سے بہر حال نہ ہوں وہ دُکھ میں اور پنجوں میں پامال ہیں اُمید ہے دل نے بتا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي دعا کرتا ہوں اسے میرے لیگانہ نہ آوے اُن پر رنجوں کا زمانہ نہ چھوڑیں وہ ترا یہ آستانہ میرے مولیٰ انہیں ہر دم بچانا 54 5۔4