درثمین مع فرہنگ — Page 197
الہامی اشعار کیا شک ہے ماننے میں تمھیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے کافر جو کہتے تھے وہ نگوں سار ہو گئے جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے دشمن کا بھی خوب دار نکلا تیس پر بھی وہ آر پار نکلا قادر ہے وہ بارگہ۔ٹوٹا کام بنا دے بنا بنایا توڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے برتر گمان و و ہم سے احمد کی شان ہے اس کا غلام دیکھیو مسیح الزمان ہے کروں گا دُور اُس ماہ سے سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آپ نے ا ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حات صفحه ۲۷ مطبوعہ سنامه) س (الحكم ۳۰ اکتوبر) سے ( اخبار بدر ۲۲ نومبر ) کے راز حقیقة الوحی صفحہ ۲۷۴ کا حاشیہ مطبوعہ ۱۹ نه ( تذکره ص۴۲۷) ت ( تذکره ص۳۰۶ ) آج 197