درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 186

درس توحید وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بیٹوں میں پاتے ہو اس میں وہ کیا نہیں سورج پر غور کر کے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا تو اس یار سا نہیں واحد ہے لا شریک ہے اور لازوال ہے سب موت کا شکار ہیں اس کو فنا نہیں سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اُسی کو یارو! ئیتوں میں وفا نہیں اس جائے پُر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام یہ بستان سرا نہیں ( رساله تشحمید الا زبان ما و دسمبر له) 186