درثمین مع فرہنگ — Page 185
رات جو رکھتے تھے پوشاکیں بزنگ یاسمن منع کر دے گی انھیں مثل درختان چنار ہوش اُڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے تو اس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و بیخود راہوار خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں سُرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب رانجبار متحمل ہو جائیں گے اس خود سے سب جن وانس زار بھی ہو گا تو ہو گا اُس گھڑی باحال زار اک نمونہ قہر کا ہو گا وہ ربانی نشاں آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی سٹار ہاں نہ کر جلدی سے انکار اسے سفیہ ناشناس اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دارو مدار وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر ہو کہ متقی اور بردبار یہ گماں مت کہ کہ یہ سب بد گمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار کبھی اس زمانہ نے نہ دکھی ہو۔اور جانوں اورعمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ہاں گر یا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کاذب ٹھہروں گا۔گر میں باربار لکھ چکا ہوں کہ یہ شدید آفت جس کوخدا تعالیٰ نے زلزلہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔صرف اختلاف مذہب پر کوئی اثر نہیں رکھتی اور نہ ہند و یا عیسائی ہونے کی وجہ سے کسی پر عذاب آسکتا ہے اور نہ اس وجہ سے آسکتا ہے کہ کوئی میری بیعت میں داخل نہیں۔یہ سب لوگ اس تشویش سے محفوظ ہیں۔ہاں جو شخص خواہ کسی مذہب کا پابند ہو جرائم پیشہ ہونا اپنی عادت رکھے۔اور فسق وفجور میں فرق ہو اور زانی بخونی، چور ، ظالم اور ناحق کے طور پر بد اندیشی ابد زبان اور بدیلین ہوائس کو اس سے ڈرنا چاہیتے اور اگر تو بہ کرے تو اس کو بھی کچھ غم نہیں اور مخلوق کے نیک کردار اور نیک چلن ہونے سے یہ عذاب مل سکتا ہے قطعی نہیں ہے۔منہ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۹۷ ، مطبوعہ شاد / روحانی خزائن جلد ۲۱ ص۱۲۷ تا ۱۵۲) 185