درثمین مع فرہنگ — Page 163
بات پھر یہ کیا ہوئی کس نے میری تائید کی خائب و خاسر ہے تم ، ہو گیا میں کامکار اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیاں بھی تھی انہاں ایسی کہ گویا زیر غار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو کہ چرچاکس قدر ہے ہر کنار اُس زمانہ میں خُدا نے دی تھی شہرت کی خبر جو کہ اب پوری ہوئی بعد از مرور روزگار کھول کر دیکھو برائیں جو کہ ہے میری کتاب اس میں سے پیش گوئی پڑھ لو اس کو ایک بار اب ذرا سوچو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے اس قدر امیر نہاں پر کس بیشتر کو اقتدار قدرت رحمان و تکر آدمی میں فرق ہے جو نہ سمجھے وہ غیبی از فرق تا پا ہے حمار سوچ لو اسے سوچنے والو کہ اب بھی وقت ہے راہ حرماں چھوڑ دو رحمت کے ہو اُمیدوار سوچ لو یہ ہاتھ کس کا تھا کہ میرے ساتھ تھا کس کے فرماں سے میں مقصد پاگیا اور تم ہو خوار یہ بھی کچھ ایماں ہے یارو ہم کو سمجھائے کوئی جس کا ہر میدان میں پھیل حرماں ہے اور ذلت کی مار غل مچاتے ہیں کہ یہ کا فر ہے اور دقبال ہے میں تو خود رکھتا ہوں اُن کے دیں سے اور اماں سے عار گر یہی دیں ہے جو ہے اُن کی خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار اور جان و دل سے ہم نثار ملت اسلام ہیں لیک دیں وہ رہ نہیں جس پر چلیں اہل نقار ہم دیں پر 163