درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 162

یہ کہاں سے سن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کہ دھیاں ہزار نعرة انا ظَلَمْنَا سُنّتِ آبرار ہے زہر منہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہونسل مار جنم کو کل کل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزد کردگار اپنے ایماں کو ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھنا مجھ کو کافر کہتے کہتے خود نہ ہوں از اہل نار گر کیا ہو سوچ کر دیکھیں کہ یہ کیا راز ہے وہ مری ذلت کو چاہیں پا رہا ہوں میں وقار کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج سنک اژدھا بن بن کے آتے ہو گئے پھر سوسمار کے فقیہو ا عالمو ! مجھے کو سمجھ آتا نہیں یہ نشان صدق پا کر پھر یہ کیں اور یہ نقار صدق کو جب پایا اصحاب رسول اللہ نے اس یہ مال و جان و تن بڑھ بڑھ کے کرتے تھے نشار پھر عجب یہ علم یہ تنقید آثار و حدیث دیکھ کر سو سونشاں پھر کر رہے ہو تم فرار بحث کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں روح انصاف و خدا ترسی کہ ہے دیں کا مدار کیا مجھے تم چھوڑتے ہو جاو دنیا کے لئے جاو دنیا کب تک ؟ دنیا ہے خود نا پائیدار کون در پردہ مجھے دیتا ہے ہر میدان میں فتح کون ہے جو تم کو ہر دم کر رہا ہے شرمسار رہا تم تو کہتے تھے کہ یہ نابود ہو جائے گا جلد یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اک ادنی شیکار 162