درثمین مع فرہنگ — Page 132
زندہ وہی ہیں جو کہ خدا کے قریب ہیں مقبول بن کے اُس کے عزیز و حبیب ہیں دہ دور میں خدا سے جو تقویٰ سے دُور ہیں ہر دم اسیر نفرت و کینه و مغرور ہیں تقوی یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ د دو اُس یار کے لئے رہ عشرت کو چھوڑ دو لعنت کی ہے راه سو لعنت کو چھوڑ دو ورنہ خیالِ حضرت عزت کو چھوڑ دو تلخی کی زندگی کو کرو صدق سے قبول تا تم ہو ملائکہ عرش کا نُزُول اسلام چیز کیا ہے ؟ خُدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش پئے مرضی خُدا جو مر گئے اُنہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس رہ میں زندگی نہیں ملتی بحر کمات 132