درثمین مع فرہنگ — Page 131
جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں بے قید اور دلیر ہو کچھ دل میں ڈر نہیں کو روگ کی دوا ہی وضل الھی ہے اس قید میں ہر ایک گناہ سے رہائی ہے پر جس خُدا کے ہونے کا کچھ بھی نہیں نشاں کیونکر نثار ایسے پہ ہو جائے کوئی جہاں ہر چیز میں خُدا کی رضی کا ظہور ہے پر پھر بھی غافلوں سے جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے وہ آشنا دلدار دور ہے اسے آزمانے والے ! یہ نسخہ بھی آزما عاشق جو ہیں وہ یار کو مرمر کے پاتے ہیں جب مرگئے تو اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں راہ تنگ ہے۔یہ ہی ایک راہ ہے دلیر کی مرنے والوں پہ ہر دم نگاہ ہے ناپاک زندگی ہے جو دُوری میں کٹ گئی دیوار شهر خشک کی آخر کو پھٹ گئی 131