درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 121

جو معجزات سُنتے ہو قصوں کے رنگ میں اُن کو تو پیش کرتے ہیں سب بحث و جنگ میں جتنے ہیں فرقے سب کا ہی کاروبار ہے قصوں میں معجزوں کا بیاں بار بار ہے پر اپنے دیں کا کچھ بھی دکھاتے نہیں نشاں گویا وہ رب ارض و سما اب ہے ناتواں گویا اب اس میں طاقت و قدرت نہیں رہی ده سلطنت ، وه زور ، ده شوکت نہیں رہی وہ یا یہ کہ اب خدا میں وہ رحمت نہیں رہی زینت بدل گئی ہے وہ شفقت نہیں رہی ایسا گماں خطا ہے کہ وہ ذات پاک ہے ایسے گماں کی نوبت آخر بلاک ہے سچ ہے یہیں ، کہ ایسے مذاہب ہی مر گئے اب اُن میں کچھ نہیں ہے کہ جاں سے گذر گئے پابند ایسے دینوں کے دُنیا پرست ہیں غافل ہیں ذوق یار سے دُنیا میں مست ہیں 121