درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 99

اُس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے وه دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خُدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا ہی ہے ہم تھے دلوں کے اندھے سو کو دلوں میں پھندے پھر کھولے جس نے جن سے وہ محبتی ہی ہے اے میرے رب رحماں تیرے ہی ہیں یہ احساں مشکل ہو تجھ سے آساں ہر دم رکھا ہی ہے اے میرے یار جانی ! خود کو تو مہربانی ور نہ بلائے دُنیا اک اژدھا ہی ہے دل میں نہیں ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا ہی ہے لے چندے سے مراد اس جگہ قفل ہے چونکہ اس جگہ کوئی شاعری دکھلانا منظور نہیں اور نہ ہیں یہ نام اپنے لئے پسند کرتا ہوں۔اس لئے بعض جگہ میں نے پنجابی الفاظ استعمال کئے ہیں۔اور ہیں صرف اردو سے کچھ غرض نہیں اصل مطلب امر حق کو دلوں میں ڈالنا ہے شاعری سے کچھ تعلق نہیں ہے۔منہ 99