درثمین مع فرہنگ — Page 98
پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں راک قمر ہے اُس پر ہر اک نظر ہے بدر الدجی یہی ہے پہلے تو رہ میں تارے پار اُس نے ہمیں اتارے میں جاؤں اُس کے وارے لیس ناخدا یہی ہے پردے جو تھے ہٹائے اندر کی رہ دکھائے وہ یارِ لا مکانی وہ دل یار سے ملائے وہ آشنا ہی سے ولید نهانی دیکھا ہے ہم نے اُس سے بس رہنما یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے ، وہ تاج مرسلیں ہے، وہ ده طيب وایں ہے اس کی شنا یہی ہے حق سے جو حکم آتے اس نے وہ کر دکھائے جو راز تھے بتائے نغم العطا نہیں ہے آنکھ اس کی دُور ہیں ہے، دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے میں الیا یہی ہے جو رازِ دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرماں روا ہی ہے 98