درثمین مع فرہنگ — Page 86
جاں بھی ہے اُن پہ قرباں گر دل سے ہو دیں صافی پس ایسے بدکنوں کا مجھ کو گلا ہی ہے احوال کیا کہوں میں اس غم سے اپنے دل کا گویا که این غموں کا جہاں سرا ہی ہے لیتے ہی حکم اپنا دشمن ہوا یہ فرقہ آخر کی کیا اُمیدیں جب ابتدا ہی ہے دل پھٹ گیا ہمارا تحقیر سُنتے سنتے غم تو بہت ہیں دل میں۔پر جاں گرا ہی ہے دنیا میں گرچہ ہو گی کو قسم کی برائی غفلت پاکوں کی ہتک کرنا۔سب سے بڑا ہی ہے غافلوں کی روتے رہے ہیں مُرسل پر اس زماں میں لوگو ! توجہ نیا ہی ہے ہم یہ نہیں ہیں کہتے اُن کے مقدسوں کو تعلیم میں ہماری حکیم خُدا یہی ہے ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک یہ زبانی تقوی کی جڑ یہی ہے صدق وصفا ہی ہے 86 98