دُرِّثمین اُردو — Page 81
ΔΙ یہ سب نشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ آے گرنے والو دوڑو دیں کا عصا یہی ہے کس کام کا وہ دین ہے جس میں نشاں نہیں ہے دیں کی میرے پیارو! زریں قبا یہی ہے افسوس آریوں پر جو ہو گئے ہیں شیتر وہ دیکھ کر میں منکر ظلم و جفا یہی ہے معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں کیا ان نیوگیوں کا ذہن رسا یہی ہے اک ہیں جو پاک بندے اک ہیں دلوں کے گندے جیتیں گے صادق آخر حق کا مزا یہی ہے ان آریوں کا پیشہ ہر دَم ہے بد زبانی ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی ہے پاکوں کو پاک فطرت دیتے نہیں ہیں گالی پر ان سیہ دلوں کا شیوہ سدا یہی ہے افسوس سبّ و تو ہیں سب کا ہوا ہے پیشہ کس کو کہوں کہ ان میں ہرزہ درا یہی ہے