دُرِّثمین اُردو — Page 80
۸۰ دُنیا میں اس کا ثانی کوئی نہیں ہے شربت پی لو تم اس کو یارو! آب بقا یہی اسلام کی سچائی ثابت ہے جیسے سورج ہے پر دیکھتے نہیں ہیں دشمن بلا یہی ہے جب کھل گئی سچائی پھر اس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راہِ حیا یہی ہے جو ہو مفید لینا جو بد ہو اُس سے بچنا عقل و خرد یہی ہے فہم و ذکا یہی ہے ملتی ہے بادشاہی اس دیں سے سے آسمانی کے طالبانِ دولت! ظل ہما یہی ہے سب دیں ہیں اک فسانہ شرکوں کا آشیانہ اُس کا ہے جو یگانہ چہرہ نما یہی ہے سو سو نشاں دکھا کر لاتا ہے وہ بلا کر مجھ کو جو اُس نے بھیجا بس مدعا یہی ہے کرتا ہے معجزوں سے وہ یار دیں کو تازہ اسلام کے چمن کی بادِ صبا یہی ہے