دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 78

ZA قادیان کے آریہ۔آریوں پر ہے صد ہزار افسوس دل میں آتا ہے بار بار افسوس ہو گئے حق کے سخت نافرماں کر دیا دیں کو قوم پر قرباں! وہ نشاں جس کی روشنی سے جہاں ہو کے بیدار ہو گیا لرزاں ان نشانوں سے ہیں یہ انکاری پر کہاں تک چلے گی طراری اُن کے باطن میں اک اندھیرا ہے کین و نخوت نے آ کے گھیرا ہے ނ ނ لڑ رہے ہیں خُدائے یکتا باز آتے نہیں ہیں غوغا قوم کے خوف سے وہ مرتے ہیں سو نشاں دیکھیں کو نشاں دیکھیں کب وہ ڈرتے ہیں موت لیکھو بڑی کرامت پر سمجھتے نہیں ہے میرے مالک تو ان کو خود سمجھا آسماں سے پھر اک نشان دکھلا شامت ہے 000 قادیان کے آریہ اور ہم ٹائیٹل پیج۔صفحہ ۲۔مطبوعہ ۱۹۰۷ء