دُرِّثمین اُردو — Page 77
22 انذار اشتہار واجب الاظہار از طرف این خاکسار درباره پیشگوئی زلزلہ دوستو! جا گو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے پھر خدا قدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے وہ جو ماہ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقیں سمجھو کہ وہ اک زجر سمجھانے کو ہے آنکھ کے پانی سے یارو! کچھ کرو اس کا علاج آسماں اے غافلواب آگ برسانے کو ہے کیوں نہ آویں زلزلے، تقویٰ کی رہ گم ہوگئی اک مُسلماں بھی مسلماں صرف کہلانے کو ہے کس نے مانا مجھ کو ڈر کر کس نے چھوڑا ابغض و کیں زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے کا فرود جبال اور فاسق ہمیں سب کہتے ہیں کون ایماں صدق اور اخلاص سے لانے کو ہے جس کو دیکھو بدگمانی میں ہی حد سے بڑھ گیا گر کوئی پوچھے تو سو سو عیب بتلانے کو ہے چھوڑتے ہیں دیں کو اور دنیا سے کرتے ہیں پیار سو کریں وعظ ونصیحت کون پچھتانے کو ہے ہاتھ سے جاتا ہے دل دیں کی مصیبت دیکھ کر پر خدا کا ہاتھ اب اس دل کو ٹھہرانے کو ہے اس لیے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی ہر طرف یہ آفتِ جاں ہاتھ پھیلانے کو موت کی رہ سے ملے گی اب تو دیں کو کچھ مدد ورنہ دیں اے دوستو! اک روز مر جانے کو ہے یا تو اک عالم تھا تر باں اُس پر یا آئے یہ دن ایک عبدالعبد بھی اس دیں کے جھٹلانے کو ہے چشم مسیحی ٹائیٹل پیج صفحہ ۲۔مطبوعہ ۱۹۰۶ء