دُرِّثمین اُردو — Page 34
۳۴ میں کہتا ہوں اک بات اے نیک نام ! ذرا غور سے اُس کو شنیو تمام کہ بے شک یہ چولہ پُر از نور ہے تمرد ، وفا سے بہت دور ہے دکھائیں گے چولہ تمہیں کھول کر کہ دو اُس کا اثر ذرا بول کر یہی پاک چولہ رہا اک نشاں گرو سے کہ تھا خلق پر مہرباں اسی پر دوشالے چڑھے اور زر یہی فخر سکھوں کا یہی ملک و دولت کا تھا اک ستوں عمل بد کئے ہو گئے سرنگوں خدا کے لئے چھوڑ اب بغض و کیں ذرا سوچو باتوں کو ہو کر امیں وہ صدق و محبت وہ مہر و وفا جو نانک سے رکھتے تھے تم برملا ہے سر بسر دکھاؤ ذرا آج اُس کا اثر اگر صدق ہے جلد دوڑو ادھر گُرو نے تو کر کے دکھایا تمہیں وہ رستہ چلو جو بتایا تمہیں کہاں ہیں جو نانک کے ہیں خاک پا جو کرتے ہیں اُس کے لئے جاں فدا کہاں ہیں جو اس کے لئے مرتے ہیں جو ہے واک اُس کا وہی کرتے ہیں ماں ہیں جو ہوتے ہیں اُس پر نثار جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر کے کہاں ہیں جو ر کھتے ہیں صدق وثبات گرو سے ملے جیسے شیر و نبات کہاں ہیں کہ جب اُس سے کچھ پاتے ہیں تعشق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں