دُرِّثمین اُردو — Page 33
۳۳ ہے اپنی لگا نور خدا خدا سے ملا ارے جلد آنکھوں ارے لوگو! تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں اُس پہ رکھنا نظر زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ کریں حق کی تکذیب سب بے درنگ وہی دیں کے راہوں کی سنتا ہے بات کہ ہو متقی مرد اور نیک ذات مگر دوسرے سارے ہیں پر عناد پیارا ہے ان کو غرور اور فساد بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ نہیں بات میں اُن کی کچھ بھی فروغ بھلا بعد چولے کے اے پر غرور ! وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دُور؟ تو ڈرتا ہے لوگوں سے اے بے ہنر ! خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر؟ یہ تحریر چولہ کی ہے اک زباں سنو ! وہ زباں سے کرے کیا بیاں؟ دین خدا دین اسلام ہے جو ہو منکر اُس کا بدانجام ہے محمد وہ نبیوں کا سردار ہے کہ جس کا غدو مثل مُردار ہے تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا کہو جو رضا ہو مگر سُن لو بات وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکش پات کہ حق جو سے کرتار کرتا ہے پیار وہ انساں نہیں جو نہیں حق گذار کہو جب کہ پوچھے گا مولی حساب تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب؟