دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 24

۲۴ طلب میں چلا بے خود و بے حواس خدا کی عنایات کی کر کے آس جو پوچھا کسی نے چلے ہو کدھر؟ غرض کیا ہے جس سے کیا یہ سفر؟ کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں شارِ رہ پاک کرتار ہوں سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا کہ اے میرے کرتار مشکل گشا ! میں عاجز ہوں کچھ بھی نہیں خاک ہوں مگر بندہ درگہ پاک ہوں میں قرباں ہوں دل سے تیری راہ کا نشاں دے مجھے مرد آگاہ کا نشاں تیرا یا کر وہیں جاؤں گا جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤں گا کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا کہ جس میں ہواے میرے تیری رضا بتایا گیا اُس کو الہام میں مگر کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں مرد عارف فلاں مرد ہے وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے ملا تب خدا سے اسے ایک پیر کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر ، شیخ وہ بیعت سے اس کے ہوا فیضیاب سنا پھر آیا وطن کی طرف اُس کے بعد ملی پیر کے فیض سے بخت سعد ذکر راه صواب کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زبان چُپ تھی اور سینہ میں نور تھا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز