دُرِّثمین اُردو — Page 23
۲۳ ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال اسی جستجو میں وہ رہتا مدام کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام اُسے وید کی رہ نہ آئی پسند کہ دیکھا بہت اسکی باتوں میں گند جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور گلے لگا ہونے دل اس کا اوپر تلے کہا کیسے ہو خدا کا کلام ضلالت کی تعلیم، ناپاک کام ! ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم مگر دل میں رکھتا وہ رنج و آلم وہ رہتا تھا اس غم سے ہر دم اُداس زباں بند تھی دل میں سو سو ہراس یہی فکر کھاتا اسے صبح و شام نہ تھا کوئی ہم راز ئے ہم کلام کبھی باپ کی جب کہ پڑتی نظر وہ کہتا کہ اے میرے پیارے پسر ! میں حیراں ہوں تیرا یہ کیا حال ہے وہ غم کیا ہے جس سے تو پامال ہے؟ نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے؟ مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال کہ کیوں غم میں رہتا ہے اے میرے لال؟ وہ رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر ہے مگر دل میں اک خواہش سیر ہے پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ اُتار اپنے مونڈھوں سے دنیا کا بار طلب میں سفر کر لیا اختیار خدا کے لئے ہو گیا دردمند تَنَعُمُ کی راہیں نہ آئیں پسند