دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 20

چھو کے دامن تر اہر دام سے ملتی ہے نجات کا جرم در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے دلبرا ! مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ تیرا نقش جمایا ہم نے دیکھ کر تجھ کو عجب نور کا جلوہ دیکھا نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گا یا ہم نے قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیارے آج شور محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے آگے آگے آگے آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۲۴ مطبوعه ۱۸۹۳ء