دُرِّثمین اُردو — Page 19
۱۹ جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لائبرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے مورد قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کے ہم جب سے شق اس کا نہ دل میں بٹھایا ہم نے زعم میں اُن کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں! نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب باراٹھایا ہم نے تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے صف دشمن کو کیا ہم نے بحجت پامال سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے نور دکھلا کے تیرا سب کو کیا ملزم و خوار سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے نقش ہستی تری اُلفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تیری راہ میں اُڑایا ہم نے تیرا مے خانہ جو اک مربع عالم دیکھا کم کا کم منہ سے بصد حرص لگا یا ہم نے شانِ حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے