دُرِّثمین اُردو — Page 184
۱۸۴ _^ و۔-11 ا۔جس کی ༡: یہ خیانت ایسے دیں پر ہزار لعنت دوستو اک 000 ہے 小小 ہے اک نظر خدا کے لئے الخلق مصطفے کے لئے 000 کوئی جو مُردوں کے عالم میں جاوے وہ خود ہو مُردہ تب وہ راہ پاوے زندوں کا مُردوں سے ہے کیا جوڑ کیونکر ہو کوئی ہم گیا 000 بدبخت اپنے وار بتاوے کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے کھل گئی ساری حقیقت سیف کی کم کرو اب ناز اُس مُردار سے - آریہ دھرم صفحه ۴۵ مطبوعه ۱۸۹۵ء - آگے کر کے آگے اشتہار مُسْتَيْقِنًا بِوَحْيِ اللَّهِ الْقَهَّارِ ۱۴ جنوری ۱۸۹۷ء ۱۰۔ایام اسیح صفحه ۱۴۳۔مطبوعہ ۱۸۹۹ء ا۔نزول المسیح صفحه ۲۲۴۔مطبوعہ ۱۹۰۹ء